کمٹہ 8؍اگست (ایس اونیوز) ہمارے ملک میں نوجوان کھلاڑی زیادہ تر مقبول عام کھیل کرکٹ کی طرف ہی راغب ہوتے ہیں۔ لیکن اس رجحان کے برخلاف ضلع شمالی کینرا کے ایک نوجوان کھلاڑی نے پیرا ٹیبل ٹینس میں نہ صرف دلچسپی لی ہے بلکہ اس میدان میں ریاستی، نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے انعامات اور میڈل بھی حاصل کیے ہیں۔
کمٹہ کے دیورہکّل کے رہنے والے نوجوان کھلاڑی ناظم حالانکہ بائیں پاؤں کے گھٹنے میں سقم سے دوچار ہیں، لیکن پیرا ٹیبل ٹینس میں ان کی دلچسپی اور مہارت کی وجہ سے دیش کوان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ گزشتہ ۶ برسوں سے مسلسل اس کھیل کی تربیت پانے والے ناظم کمٹہ میں ہوم اپلائنس کی دکان چلانے والے جاوید اسماعیل خان اور فوزیہ خان کے فرزند ہیں۔ اب تک انہوں نے نیشنل اور انٹرنیشنل پیرا ٹیبل ٹینس مقابلوں میں حصہ لے کر اپنی جیت درج کی ہے اور بہت سے انعامات حاصل کیے ہیں۔ناظم نے 2013میں بنکاک، 2017میں بیجنگ اور امسال جون میں بارسیلونا میں منعقدہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی تھی۔ سال 2012میں بنگلورو میں منعقدہ نیشنل پیرا ٹیبل ٹینس مقابلے میں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ 2016میں بنگلورو میں منعقدہ اور امسال اندور میں منعقدہ نیشنل چامپئین شپ مقابلے میں انہیں برانز میڈل حاصل ہوا تھا۔
ناظم خان فی الحال ہبلی کے کیمس میں ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر میں زیر تعلیم ہیں ۔ نصابی تعلیم کے ساتھ انہوں نے غیر نصابی سرگرمی کے طور پر ٹیبل ٹینس کی مشق جاری رکھی ہوئی ہے۔ جب سال 2012میں ناظم کمٹہ کے ڈاکٹر وی وی بالیگا کالج میں پی یو سی کی تعلیم حاصل کرہے تھے تو انہوں نے وہاں دیوآنند گاؤنکر نامی کوچ سے ٹیبل ٹینس کی تربیت پائی تھی۔ اب ہبلی میں کورٹ روڈ پر واقع مہاراشٹرا منڈل ٹیبل ٹینس اکاڈیمی کے رکن بن گئے ہیں اور وہاں امیش، ابھیشیک،وجئے پائی اور دھن راج سے تربیت حاصل کررہے ہیں۔ناظم خان نے بتایا کہ وہ روزانہ ۲ گھنٹے اس کھیل کی مشق کرتے ہیں۔ کالج کے انڈور اسٹیڈیم میں کالج اسپورٹس ایسوسی ایشن کے صدر راج شیکھر دونڈریڈی ان کے ساتھ کھیلتے ہیں۔
ناظم خان کی کارکردگی صرف کھیل کے میدان تک ہی نہیں ہے بلکہ نصابی تعلیم میں بھی ان کامعیار بہت بلند ہے۔ انہوں نے سائنس فیکلٹی سے پی یوسی دوم میں 93فیصد مارکس حاصل کیے تھے۔اور امید کی جاتی ہے کہ ایم بی بی ایس فائنل میں بھی وہ نمایاں کامیابی درج کروائیں گے۔خیال رہے کہ ناظم کی بہترین صلاحیتوں اور عمدہ کارکردگی دیکھتے ہوئے اکثر بیرون ملک ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لئے مخیر حضرات ان کو اسپانسر کرنے کے لئے آگے آتے ہیں۔